مطبوعات

خطبۃ المتقین از نہج البلاغہ

ترجمہ: علامہ مفتی جعفر حسین قدس سرہ الشریف

بسم اللہ الرحمن الرحیم

امیر المؤمنین، امام المتقینؑ کے بکھرے ہوئے علمی جواہر پاروں  کو ۴۰۰ ہجری میں علامہ سید رضیؒ نے جمع کر کے ’’نہج البلاغہ‘‘ نام رکھا۔ اس دور سے آج تک علم کے پیاسے  اس سے علمی پیاس بجھا رہے ہیں۔

نہج البلاغہ کیا ہے؟ علی امیر المؤمنینؑ کی معرفت کا بہترین ذریعہ ہے۔

اس میں معرفت پروردگار کی باریکیاں، پیغمبرؐ کی عظمت کا بیان، عقائد کی وضاحت، احکام کی ترغیب، قرآن کی تفسیر، سیاست کے اصول اور زندگی کے دستور ہیں۔اور اس جیسے درجنوں  دیگر موضوعات۔

نہج البلاغہ میں کئی دنیائیں ہیں۔ زہد و تقوی کی دنیا، عبادت و عرفان کی دنیا، حکمت و فلسفہ کی دنیا، پند و نصائح  کی دنیا، حماسہ و شجاعت کی دنیا۔

حقیقت یہ ہے کہ نہج البلاغہ علوم و معارف کا ایک دریائے بیکراں ہے جس کی موجیں آج بھی علم کے پیاسوں کو ’’سلونی‘‘ کی صدائیں دے رہی ہیں۔

امیر المؤمنینؑ کی زندگی میں یہ تمنا رہی اور  اور یقینا اب بھی باقی ہے۔ جس کا اظہار آپ اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اے کمیل یہاں علم کا ایک بڑا ذخیرہ موجود ہے۔ کاش! اس کے اٹھانے والے مجھے مل جاتے‘‘۔ (کلمات قصار: ۱۴۷)

پھر امامؑ فرماتے ہیں: نصیحت کی پیش کش کرنے والے کا نصیحت کا ہدیہ قبول کرو اور اپنے دلوں میں اُس کی گرہ باندھ لو‘‘۔ (خطبہ: ۱۱۹)

امامؑ اپنے مقام اور موعظہ کو عجب الفاظ میں بیان فرماتے ہیں: ’’اے لوگو!میں نے تمہیں اسی طرح نصیحتیں کی ہیں جس طرح انبیاء اپنی امتوں کو کرتے چلے آئے ہیں‘‘۔ (خطبہ: ۱۸۰)

امامؑ نے ان مواعظ کو ہم تک اور قیامت تک کے افراد تک پہنچانے کی وصیت فرمائی ہے۔ زندگی کے آخری لحظات میں امام حسنؑ و امام حسینؑ کو فرمایا: ’’میں تمہیں، اپنی تمام اولاد، اپنے خاندان اور جس جس تک میری یہ تحریر پہنچے سب کو وصیت کرتا ہوں‘‘۔(وصیت: ۴۷)

نہج البلاغہ کی صورت میں یہ وصیتیں و تحریریں ہم تک پہنچ چکی ہیں۔ اور امامؑ نے ان نصیحتوں پر توجہ نہ دینے والوں کو بھی متنبہ فرما دیا: ’’تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ مہربان، باخبر اور تجربہ کار ناصح کی مخالفت کا ثمرہ حسرت و ندامت ہوتا ہے۔‘‘ (خطبہ:۳۵)

امامؑ کی ان تعلیمات میں سے ایک مشہور بیان ’’خطبۃ المتقین‘‘ ہے۔ جو خطبہ ہمام کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور نہج البلاغہ میں یہ خطبہ نمبر ۱۹۱ ہے۔ امام المتقینؑ نے یہ خطبہ ہمام نامی صحابی کے کہنے پر ارشاد فرمایا اور اس میں متقین کی ایک سو دس صفات و فضائل بیان فرمائے۔ گویا امامؑ نے واضح فرمایا کہ وہ متقی کن صفات کا حامل ہوتا ہے جس کا میں امام ہوں۔ اور اگر کوئی متقی کے مقام کو پانا چاہتا ہے تو اسے کن مراحل کو طے کرنا ہو گا اور اگر کوئی خود کو متقی سمجھتا ہے تو وہ خود کو کیسے پرکھ سکتا ہے؟

بزرگ علماء و مقدمین اپنی اولادوں کو یہ خطبہ یاد کرایا کرتے تھے، اس خطبہ کو الگ اس لئے شائع کیا جا رہا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک امامؑ  کا یہ کلام پہنچ سکے۔ آیئے اس خطبہ کو دقت سے پڑھیں، ہو سکے تو یاد کر لیں تاکہ اپنی زندگی میں اسے عملی جامہ پہنائیں، اس کتابچہ کو دوسروں تک پہنچائیں اور اس ذریعہ سے امامؑ  کی تعلیمات کو عام کر کے امامؑ کے دل کی تسکین کا سبب بنیں۔

اللہ سبحانہ ہمیں قرآن و اہلبیتؑ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق و سعادت نصیب فرمائے۔

آن لائن پڑھیں ڈاؤنلوڈ کریں

السلام علی من التباع الھدیٰ
مرکز افکار اسلامی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button